Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا خاندان یوپی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمین داروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو اُن کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے تھے۔ خاتمہ زمیں داری کے قانون کے مطابق، زمین دار کو اُس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی، وہ یہ کہ زمین کو جوتنے والا کسان تحریری طور پر زمین سے استفادے دے۔ ہماری بیش تر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں ۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ہماری زمیں داری کے مینیجر بھی ایک ہندو تھے، جن کا نام بھاؤ رام تھا۔ بھاؤ رام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔ انھوں نے ایک طوفانی مہم چلادی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے، وہ تحریری استفادے دے دیں۔ بھاؤ رام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے استعفا لکھوا لیا۔ ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفا حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔ اُس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔ وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ: بابو، چم داری میں داغ نہ لگنے پائے (بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے)۔ میں اس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔ تیرا دین اُس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اس داغ کو ہٹاؤں، میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page