Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

اشک بار آنکھوں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔ اُس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دہلی پبلک لائبریری میں گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جا کر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اُس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ رہا تھا۔ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ چناں چہ مجھے سردی لگ گئی اور میں بیمار ہو کر تقریباً دو مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔ آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریباً ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں، جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے وقت کے اسلوب میں اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہلِ علم نے اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی۔ امریکہ میں مقیم کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت، میری تمام کتابوں اور ماہ نامہ الرسالہ کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جاسکیگی۔ اِس کے علاوہ، انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page