Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

(harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا ذہن یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کی متنوع حیثیتوں کا تصور کر سکے۔ قرآن میں مذکور اسماء حسنیٰ اسی سوال کا جواب ہیں۔ خدا کا فزیکل ماڈل خدا کا عقیدہ انسان کے اندر ہمیشہ سے پایا گیا ہے۔ اینتھراپالوجی (anthropology) کے تحت جو مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسانی سماج کسی نہ کسی اعتبار سے خدا کو مانتا رہا ہے۔ خدا کا عقیدہ فلسفیوں کے یہاں بھی پایا گیا ہے اور اہل مذاہب کے یہاں بھی۔ لیکن فلسفہ اور مذہب دونوں میں خدا کا عقیدہ ایک بے صفات خدا (attributeless God) کی حیثیت سے پایا جاتا رہا ہے، یعنی کا سمک ریز (cosmic rays) یا زمین کی قوت کشش (gravity) کی مانند۔ لیکن مجرد خدا (abstract God) انسان کی ذہنی گرفت میں نہیں آتا۔ انسان خدا کا ایک ایسا ماڈل بنانا چاہتا ہے، جس میں وہ خدا کو صفات کی اصطلاحوں (in term of attributes) میں قابل فہم بنا سکے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے غیر فطری اظہار کے نتیجے میں بت وجود میں آئے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ الفاظ یا ناموں کے ذریعے کسی حقیقت کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ اس طرح مختلف بت، انسان کو مختلف الفاظ یا نام دے دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بزعمِ خود ایک ماڈل کے روپ میں خدا کا ادراک کرتا ہے۔ انسان نے اپنی اِسی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے غلط طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page