Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

بت بنائے اور ان کی پرستش شروع کردی۔ لیکن بتوں کی شکل میں خدا کا ماڈل بنانا، ایک بے بنیاد قیاس ہے، کیوں کہ خدا کو بتوں کا روپ دینا ایک لامحود ہستی کو محدود کا روپ دینا ہے، یہ خدا کا ایک بگڑا ہوا فارم ہے۔ یہ خدا کے نام پر خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ بت چوں کہ مٹی یا پتھر کے ہوتے ہیں اور انسان خود ان بتوں کو بناتا ہے۔ خدا کو بتوں کی شکل دینے کے باوجود ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف مٹی اور پتھر ہیں، اُن کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ اس لیے بتوں کی سطح پر خدا پرستی عملاً صرف ایک بے روح رسم بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بتوں سے قلبی ربط قائم کرسکے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ رسمی اعمال، خدا پرستی کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آدمی خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح رسموں، مثلاً پھول چڑھانے یا نذر و نیاز دینے کو خدا پرستی کے لیے کافی سمجھ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ آدمی خدا کے نام پر بتوں سے قریب ہوتا ہے، لیکن بتوں کی طرف سے جوابی طور پر اس کو کوئی انسپریشن (inspiration) نہیں ملتا، انسان داخلی طور پر اپنے لیے کوئی روحانی غذا نہیں پاتا، اس لیے بتوں کا کلچر محض ایک بے روح تعلق بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں سے قربت کے باوجود انسان کو اتنی بھی روحانی کیفیت نہیں ملتی جتنا کہ ایک باپ یا ماں کو اپنے بچے سے مل کر حاصل ہوتی ہے۔ انسان ایک باروح شخصیت ہے۔ اپنی اِس فطرت کے اعتبار سے اس کو ایک باروح خدا درکار ہے۔ پتھر کی مورتی سے اس قسم کا روحانی تعلق ہونا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page