Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات بہ ظاہر سادہ سی ہے مگر نہایت اہم ہے۔ انسان فطری طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دینا چاہتا ہے۔ مگر دوسرے مذاہب میں بگاڑ کی وجہ سے یہ حال ہو گیا ہے کہ آدمی جب دوسرے عبادت خانوں میں جاتا ہے تو وہاں وہ پاتا ہے کہ کلرچی (clergy) کے بغیر وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ اس کے بغیر وہ خدا کی عبادت کر سکتا۔ اس طرح اس کو اپنے جذبہ پرستش کی پوری تسکین حاصل نہیں ہوتی۔ اسلام میں یہ صورت حال نہیں اسلام میں ہر آدمی براہ راست خدا کو پکار سکتا ہے۔ وہ براہ راست خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے، جس کا تعلق موجودہ زمانے سے ہے۔ موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر آدمی اپنے آپ کو دوسرے کے برابر سمجھتا ہے۔ اس زمانی مزاج کی وجہ سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آتی ہے کہ کوئی طبقہ ان سے اوپر ہو۔ لوگ جس مقام پر خود ہیں، وہیں وہ کلرچی کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات آج صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح اسلام انسانی فطرت کے مطابق بھی ہو جاتا ہے، اور وقت کے تقاضے کے مطابق بھی۔ 21 مئی 1985 اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، میں ایک میٹنگ تھی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ میٹنگ میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے ادارے کا تعارف کرایا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کے یہاں جو افراد ریسرچ کا کام کر رہے ہیں، ان کو آپ کیا سہولیات دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے جواب دیا کہ ہم اپنے آدمیوں کو وہی سہولتیں دیتے ہیں، جو یو.جی.سی کی طرف سے مقرر ہیں۔ مزید یہ کہ ہم ان کو اپنے کیمپس میں رہائش گاہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ یہ گویا یہاں کے افراد کے لیے مزید ایک attraction

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page