اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں، مگر وہ ہمارے لیے distraction بن رہا ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ ایک مرتبہ رہائش گاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں، وہ پھر اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان سے رہائش گاہ کو خالی کرانے کے لیے ہمیں کورٹ جانا پڑتا ہے۔ تغلق آباد کا یہ ادارہ خالص مسلم ادارہ ہے۔ اس میں کام کرنے والے بھی سب کے سب مسلم ہیں۔ اس کے باوجود ذمے داران اور کارکنوں کے درمیان اس طرح کے جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھگڑے اگر مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ہوں تو فوراً اس کو تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ مذکورہ مسئلے کے بارے میں کیا کہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام جھگڑے انٹریسٹ (interest) کے جھگڑے ہیں۔ بظاہر کوئی شخص ایک قسم کی زبان استعمال کر رہا ہے اور کوئی شخص دوسری قسم کی زبان۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کا کیس ایک ہی کیس ہے، اور وہ وہی ہے، جس کو ”انٹریسٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز حقیقت پسندی ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں حقیقت پسندانہ انداز سے رائے نہیں قائم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہر اقدام ناکامی کا شکار ہوتا ہے۔ 22 مئی 1985 ستمبر 1982 میں میں نے شیخ سلیمان القائد (لیبیا) کے ساتھ حج کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔ اس دوران مدینہ کا سفر ہوا تو مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی، جس میں زیادہ تر ہندوستانی طلبہ اور کچھ عرب طلبہ شریک تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جو لوگ حکومت اسلامی قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader