Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں، ان کی تحریک بالفرض کامیاب ہو جائے تب بھی وہ ناکام رہے گی۔ کیوں کہ حکومت کو چلانے کے لیے وہ تقویٰ کافی نہیں ہے، جو مسجد کی امامت یا مدرسہ کی معلمی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ حکومت کا ادارہ چلانے کے لیے جس صفت کی ضرورت ہے، وہ ہے تقویٰ پلس دانش مندی کی صفت، اور یہ صفت آج کسی مسلم رہنما کے اندر موجود نہیں۔ اس پر ایک عرب نوجوان نے اعتراض کیا۔ انھوں نے اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے اکابر کا نام لیا، اور کہا کیا آپ کا خیال ہے کہ ان کے اندر تقویٰ موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ تقویٰ ہے، مگر وہ عملی حکمت (practical wisdom) سے خالی تھے۔ وہ نوجوان اس کو سمجھ نہیں پائے، اور ناراض ہو گئے۔ مجھے فوری طور پر ندامت ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے حکمت کے خلاف ایک بات کہہ دی۔ مگر بار بار کے تجربے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میری زبان سے جو بات نکلی تھی وہ بالکل صحیح بات تھی۔ موجودہ زمانے میں ہمارے تقریباً تمام قائدین کا یہی حال ہو رہا ہے کہ ان کے پاس تقویٰ کا سرمایہ تھا، مگر پریکٹیکل وزڈم کا سرمایہ ان کے پاس نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ بڑے بڑے میدانوں میں کود پڑے اور بالآخر سر اسر نا کام رہے۔ 23 مئی 1985 غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے ۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا ۔ مگر جب میں نے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میں نے اپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔ یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page