Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آتی، جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔ مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی فطری واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے، جو دیکھنے سے پہلے میں سن کر یا پڑھ کر سمجھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ انتہائی حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔ 24 مئی 1985 بہت سی باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب کہ آدمی کا دل زندہ ہو اور اس کا شعور بیدار ہو۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک ایسی قوم بن گئے ہیں، جو دل و دماغ کی زندگی سے محروم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان بہت سی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور بدقسمتی سے جن باتوں کو وہ نہیں سمجھتے وہی وہ باتیں ہیں جو زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مثلاً کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے۔ کبھی بولنا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ زندگی کی سب سے زیادہ گہری حقیقت ہے۔ مگر وہ ایک ایسی چیز ہے، جس کے لیے بہت زیادہ گہری شخصیت درکار ہے۔ آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو لازماً مشغول رہنا چاہتا ہے۔ وہ عین اپنی فطرت کے تحت ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے نہ کرنے پر وہی شخص راضی ہو سکتا ہے جس کے پاس نہ کرنے کے وقت بھی کچھ کرنے کے لیے ہو۔ وہی انسان چپ رہ سکتا ہے جو خاموشی کے وقت بھی اپنے پاس بولنے کا سامان رکھتا ہو۔ الرسالہ میں اس قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں تو موجودہ مسلمانوں کو وہ اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر یہ مسلمان اندر سے خالی (preoccupied) نہ ہوتے بلکہ ان کے اندر کا وجود خدا کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page