اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت سے ایک زندہ وجود بن چکا ہوتا تو انھیں یہ باتیں اجنبی نہ معلوم ہوتی۔ اس وقت وہ جان لیتے کہ آدمی جب چپ ہوتا ہے تو وہ اپنے خدا سے سرگوشیاں کرنے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا میں جب بظاہر اس کے قدم رک جاتے ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر مارچ کرنے لگتا ہے۔ خارجی تدبیروں سے جب وہ منقطع ہوجاتا ہے تو اس کا رشتہ قوت کے اس لازوال سرچشمے سے جڑ جاتا ہے جو کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے خارجی تدبیروں کا محتاج نہیں۔ 25 مئی 1985 قاسم رضوی (1970-1902) ”آزاد حیدر آباد“ کے علم بردار تھے۔ وہ بہت زور و شور کے ساتھ آزاد حیدر آباد کی تحریک چلا رہے تھے۔ کسی ہندو سیاست داں نے ان سے کہا کہ آپ حیدر آباد کو آزاد حیدر آباد کیسے بنائیں گے جب کہ آپ چاروں طرف انڈین یونین سے گھیرے ہوئے ہیں۔ قاسم رضوی نے جواب دیا: ”ہم نہیں گھیرے ہوئے ہیں، تم گھیرے ہوئے ہو“ پچھلے ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے مسلمان اسی قسم کی لفظ بازیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ان کے درمیان ایسا لیڈر اٹھتا ہے جو خوب صورت الفاظ بول کر ان کے ذہن کو خراب کرتا رہتا ہے۔ میرے علم میں کوئی بھی لیڈر نہیں جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو حقیقت پسندی کا سبق دیا ہو۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کے جھوٹے الفاظ بولنے والے لیڈروں کو مسلمانوں میں ساتھ دینے والے بھی جوق در جوق مل جاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ مسلمانوں کی جھوٹے فخر کی نفسیات ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مزاج، ایک لفظ میں، جھوٹے فخر کا مزاج ہے۔ مذکورہ قسم کی باتوں سے جھوٹے فخر کے مزاج کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader