25 مئی 1985
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے مسلمان جس کو ایسا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ مقبولیت اقبال کو حاصل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اقبال کی شاعری فخر ومبا ہات کی شاعری ہے۔ اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کے جھوٹے فخر کو زبردست غذا ملتی ہے۔ اس لیے ہر چھوٹا بڑا آدمی اس کو گنگناتا ہے۔ اقبال کی یہ شاعرانہ بلند پروازی بھی کیسی عجیب ہے کہ جو قوم اپنے زوال یافتہ ذہنیت کے نتیجے میں مقتدی بننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکی تھی اس کو انھوں نے الفاظ کی خود ساختہ دنیا میں امامت کے مقام پر بٹھا دیا : لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا 1985 مئی 27 سموئل جانسن (Samuel Johnson, 1709-1784) کا قول ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مشورہ کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کیا جائے ۔ جو لوگ سب سے زیادہ مشورہ کے حاجت مند ہوں وہ سب سے کم اسے پسند کرتے ہیں : Advice is seldom welcome. Those who need it most, like it least. آدمی جب خود سوچتا ہے تو وہ اپنے جذبات کے زیر اثر سوچتا ہے۔ جب کہ مشورہ دینے والا ان جذبات سے خالی ہونے کی وجہ سے کم از کم دوسرے شخص کے بارے میں غیر جذباتی انداز میں سوچتا ہے ۔ اس لیے مشورہ دینے والے کی رائے اکثر صحیح ہونے کے باوجود طالب مشورہ کے ذوق کے خلاف ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ آدمی کے اندر یا تو یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے ۔ یا یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مشورہ دینے والے کے مشورہ کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھ سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader