25 مئی 1985
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
جس آدمی کے اندر دونوں میں سے کوئی بات نہ ہو اس کے لیے اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ میرے مزاج میں بعض عجیب باتیں ہیں۔ یہ باتیں بچپن سے پائی جاتی ہیں۔ میں ہر چیز کو خود جاننا چاہتا ہوں۔ میں اکثر یہ کہا کرتا ہوں کہ میں “گلاس“ کو صرف اس لیے کہتا ہوں کہ میں نے خود در یافت کیا ہے کہ یہ گلاس ہے۔ میں کسی چیز کو صرف اس لیے مانتا کہ لوگ اس کو ایسا اور ایسا مانتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری زندگی کے عجیب عجیب واقعات ہیں۔ غالباً 1960ء کی بات ہے۔ میں اپنے وطن (بُڈھیریا) میں تھا۔ اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میں کچھ دیر کے لیے وہاں آیا تھا، اور پھر مجھے ریلوے اسٹیشن (پھر یہا) سے ٹرین پکڑ کر اعظم گڑھ جانا تھا۔ اکیلا ہونے کی وجہ سے مجھے آزادی تھی کہ جو چاہوں کروں۔ میں نے دیکھا کہ ایک طرف ارنڈ کے کچھ بیچ پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے سنا تھا کہ ارنڈ دست آور ہوتا ہے۔ مگر میں اپنے ذوق کے تحت اس پر راضی نہ تھا کہ صرف سن کر اسے مان لوں۔ چنانچہ میں نے ارنڈ کا چھلکا اتار کر اسے کھانا شروع کر دیا، اور اس طرح بہت سی ارنڈ کھا گیا۔ اس کے بعد میں بُڈھیریا سے روانہ ہوا کہ پھر یہا کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ٹرین پکڑوں۔ پھر یہا ریلوے اسٹیشن ہمارے گھر سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ میں نے ایک کلومیٹر کا راستہ طے کیا تھا کہ پیٹ میں مروڑ شروع ہوئی۔ اس کے بعد مسلسل دست آنے شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ میں کمزور ہو کر گر پڑا، اور اس قابل نہ رہا کہ ریلوے اسٹیشن پہنچ سکوں۔ مگر حسن اتفاق سے اس وقت ہمارا ملازم سردھن اہیر میرے ساتھ موجود تھا۔ وہ مجھے کسی طرح پھر یہا ریلوے اسٹیشن تک لے گیا، اور ٹرین پر سوار ہو کر ہم اعظم گڑھ پہنچے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی میں بے شمار مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader