Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

انھیں مصیبتوں کا یہ نتیجہ ہے کہ میں خدا کے فضل سے اپنے آپ کو ایک ایسا انسان سمجھتا ہوں، جو خود اپنی دریافت کردہ دنیا پر کھڑا ہوا ہو۔ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ شخصیت پرست، اور حقیقت پرست۔ شخصیت پرست وہ ہے، جو باتوں کو شخصیت کے اعتبار سے دیکھے۔ جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تائید نکلے، اس کو وہ ٹھیک سمجھ لے، اور جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تردید ہورہی ہو، اس کا وہ مخالف بن جائے۔ حقیقت پرست وہ ہے، جو باتوں کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھے۔ جو بات دلائل سے درست ثابت ہو، اس کو مانے، اور جو بات دلائل سے درست ثابت نہ ہو، اس کو رد کر دے۔ یہی دوسری قسم کے لوگ ہیں، جو خدا کو پاتے ہیں، جو کہ آخری اعلیٰ حقیقت ہے۔ پہلی قسم کے لوگ ساری عمر شخصیت کے خول میں بند رہتے ہیں، اور اسی میں مرجاتے ہیں۔ وہ اس لذت معرفت سے محروم رہتے ہیں، جو حقیقت اعلیٰ کو پا کر کسی بندہ خدا کو حاصل ہوتی ہے۔ 30 مئی 1985 قدیم یونانی سوانح نگار اور فلاسفر پلوٹارک (Plutarch) کا ایک قول ہے، جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: Courage consists not in hazarding without fear, but in being resolutely minded in a just cause. یعنی ہمت اس کا نام نہیں کہ آدمی کسی مشکل میں بے خطر کود پڑے۔ بلکہ ہمت یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح مقصد میں مستقل ارادہ کے ساتھ لگا ہو۔ اکثر لوگ ہمت اور بے جا جوش میں فرق نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ بے جا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page