Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اُس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے، جس نے اتنی بامعنی کائنات بنائی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ دراصل کچھ ملحد فلاسفہ تھے، جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طور پر انکارِ خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طور پر اقرارِ خدا کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ اس کی ایک واضح مثال برٹش سائنسداں سر جیمز جینز (وفات 1946) کی کتاب پراسرار کائنات (The Mysterious Universe) ہے۔ 1985 جنوری 12 سوامی پورن جی ایک اعلی تعلیم یافتہ ہندو گرو ہیں۔ وہ یورپ میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران روم سے دہلی تک ہوائی جہاز میں ان کا ساتھ رہا۔ اس کے بعد ان کے کئی ٹیلیفون آئے یہاں تک کہ مندرجہ ذیل مقام پر ان سے ملاقات ہوئی : Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi میں نے سوامی پورن جی سے کہا کہ آپ کے نزدیک سچائی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں۔ میں نے کہا کہ جب سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں تو آپ اپنے سفروں میں کس چیز کا پر چار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں لوگوں کو یہ نہیں بتا تا کہ سچائی کیا ہے۔ میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ کون سا پراسس ہے جس کو فالو (follow) کرکے تم سچائی تک پہنچ سکتے ہو۔ میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا کہ سچائی اگر چہ آپ کے نزدیک معلوم چیز نہیں مگر آپ کے بیان کے مطابق سچائی کا پراسس ضرور ایک معلوم چیز ہے۔ جبھی تو آپ اس کا پرچار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page