Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہیں۔ پھر آپ کے نزدیک وہ کرائٹیرین (criterion) کیا ہے، جس پر جانچ کر ہم یہ معلوم کرسکیں کہ آپ کا تجویز کردہ پراسس درست ہے۔ سوامی جی اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔ کچھ دیر گفتگو ہوتی رہی۔ آخر میں ان کو رسالہ انگریزی پیش کیا گیا۔ 14 جنوری 1985 انڈیا کے ایک عالم دین لندن کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ وہ لندن جاتے ہوئے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ”پاکستان کے فلاں عالم صاحب بہت بڑے عالم تھے۔ جزئیاتِ فقہ پر ان کی نظر جتنی وسیع تھی شاید ہی ہند و پاک میں کسی دوسرے عالم کی ہو۔ گویا جزئیاتِ دین کے عالم ہونے کا نام عالم ہے، اساساتِ دین کا عالم ہونے کا نام عالم نہیں۔ فقہ جب ابتداءً بنی تو اساساتِ دین کے مطالعہ کے لیے نہیں بنی بلکہ مسائلِ دین کے مطالعہ کے لیے بنی۔ اسی طرح فقہ پر جزئیاتی ذہن غالب آگیا۔ اسی فقہ پر ہمارے موجودہ مدارس کی بنیاد قائم ہے۔ ہمارے مدارس میں جزئیاتی مسائل پر زبردست بحثیں ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جزئیاتی مسائل کے عالم ہونے کا نام عالم ہے۔ اس طریقہ تعلیم نے ملت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ زمانے کے دینی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مدارس کا تعلیمی نظام فقہ پر قائم ہے۔ اگر مدارس کا نظام قرآن وحدیث پر قائم کیا جائے تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ 15 جنوری 1985 اخوان المسلمون کی تحریک کو مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اخوانی تحریک کے مختلف شعبے تھے۔ ان میں سے ایک فوجی شعبہ تھا جس کو جناح عسکری کہا جاتا تھا۔ اخوان کے جناح عسکری کے سربراہ حسن دوح (,Hasan Dauh

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page