اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر مہاتما گاندھی نے جواہر لال نہرو کو آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیا۔ جن لوگوں نے جنگ کی قیادت کی تھی انھیں مہاتما گاندھی نے تعمیر کی قیادت بھی سونپ دی۔ مہاتما گاندھی نے آزادی ہند کی تحریک نہایت کامیابی کے ساتھ چلائی تھی مگر اسی کامیابی کے ساتھ وہ تعمیر ہند کی تحریک کی رہنمائی نہ کر سکے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مہاتما گاندھی نے شمالی ہند کے جواہر لال نہرو کے بجائے جنوبی ہند کے راجہ گوپال آچاریہ کو ملک کا وزیر اعظم بنایا ہوتا تو آج ہندوستان کی تاریخ یقینی طور پر بالکل دوسری ہوتی۔ 11 جون 1985ء پاکستان کے سابق وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کا نعرہ یہ تھا: اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت ہے مسٹر بھٹو کے اس نعرہ پر پاکستان کے مذہبی طبقہ کو سخت اعتراض تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مسٹر بھٹو نے اسلام کو تین حصہ میں بانٹ دیا ہے۔ ایک اسلام، دوسرے جمہوریت، تیسرے سوشلزم۔ جب کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہے۔ اس میں کسی قسم کی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔ مسٹر بھٹو ایک بدنام شخص تھے۔ ان کی تقسیم فوراً لوگوں کو نظر آ گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خود مذہبی طبقہ اس طرح تین تقسیم پر اپنے کو راضی کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں، جو مسٹر بھٹو نے استعمال کیے تھے۔ مذہبی افراد کی تقسیم کو اگر ہم لفظوں میں ظاہر کرنا چاہیں تو اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: اسلام ہمارا دین ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader