29 جون 1985
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 ہے، جیسا کہ ابن حزم نے لکھا ہے۔ مگر یہ کثیر تعداد تکرار اسناد کی بنا پر ہے۔ محدثین کا طریقہ ہے کہ وہ احادیث کو طرق روایت کے اعتبار سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث کو چار آدمیوں نے سنا ہو اور وہ چاروں الگ الگ اس کو بیان کریں تو محدثین کے یہاں یہ ایک حدیث چار حدیث بن جائے گی۔ کچھ لوگوں نے اس کا جائزہ لیا ہے اور تکرار کو حذف کر کے روایات کی تعداد متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے مکررات کو حذف کیا تو روایات ابو ہریرہ کی اصل تعداد صرف 1336 رہ گئی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو منکرین حدیث کا اعتراض بالکل بے حقیقت ثابت ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ حضرت ابو ہریرہ کی مدت صحبت کے اعتبار سے 1336 کی تعداد زیادہ نہیں۔ جب کہ یہ ثابت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اپنے قبیلے سے آ کر مدینہ میں رہ گئے تھے اور مسجد نبوی میں قیام کی وجہ سے ان کو رسول اللہ کے ارشادات سننے کا موقع دوسروں سے زیادہ ملا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کے بارے میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: كَانَ مِنْ أَحْفَظِ أَصْحَابِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَالْزمَهُ لَهُ عَلَى شبعِ بَطْنِهِ وَكَانَتْ يَدَهُ مَعَ يَدِهِ يَدُورُ مَعَهُ حَيْثُ مَا دَارَ إِلَى أَنْ مَاتَ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم (رجال صحیح مسلم لابن مِنْجوَّیہ، جلد 2، صفحہ 403، اثر نمبر 2161)۔ یعنی وہ اصحاب رسول میں سب سے زیادہ (حدیث کے) حافظ تھے، وہ بھوکے رہ کر بھی سب سے زیادہ آپ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور جہاں آپ گئے وہاں وہ گئے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ایس ٹی کولرج (1734-1772, Samuel Taylor Coleridge) ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader