29 جون 1985
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور انگریزی شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے: The Rhyme of the Ancient Mariner اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میں پھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ اس کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جا سکے: Water, water, everywhere/ Nor any drop to drink. جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا وہی حال امکانی طور پر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔ اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے، مگر مخصوص قانون قدرت کے تحت اس کا نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے، اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے جس کی اسے سخت ترین ضرورت ہے۔ بارش کا عمل ازالہ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خدا کے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے دو دریا بنائے ۔ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader