Urdu book · اوراقِ حکمت

29 جون 1985

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان ایک آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک بیان ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت ساری دنیا میں کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ پانی دو قسم کے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر بہتے ہیں۔ ایسے زمانہ میں قرآن میں اس قسم کی آیت کا ہونا واضح طو ر پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے۔ کیوں کہ کوئی انسان اس راز سے واقف ہی نہ تھا کہ وہ اس کو بیان کرے۔ موجودہ زمانہ میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بات پانی کے کھاری پن میں فرق سے پیدا ہوئی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانکا میں (Salinity Current) کے تحت درج ہے: Saline water is denser than fresher water; when two water bodies converge, the more saline of the two flows beneath the less saline. Thus, a river flowing into the sea flows on the surface, sometimes for great distances; the Mississippi, for example, appears as a brown, freshwater stream in the blue waters of the Gulf of Mexico. (Encyclopaedia Britannica. Vol. 8, p. 811) کھاری پانی میٹھے پانی سے زیادہ کثیف (dense) ہوتا ہے۔ جب دو پانی ملتے ہیں تو جو دونوں میں سے زیادہ کھاری ہوتا ہے وہ کم کھاری کے نیچے بہتا ہے۔ اس طرح سمندر میں بہنے والا ایک دریا سمندر کی سطح پر بہتا ہے۔ بعض اوقات بہت دور تک مثلاً مسیپی میکسکو گلف کے نیلے پانی کے اوپر بادامی پانی کی شکل میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر باتیں بالکل سادہ اور فطری ہوتی ہیں مگر ان کو غیر ضروری طور پر پراسرار بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page