Urdu book · اوراقِ حکمت

29 جون 1985

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا کہ لوگوں کو پکارو، تا کہ وہ یہاں حج کے لیے آئیں۔ حضرت ابراہیم کو اندیشہ ہوا کہ میری آواز ہر جگہ کیسے پہنچے گی۔ خدا نے کہا کہ تم پکارو اور پہنچانا ہمارا کام ہے (يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُبْلِغُ النَّاسَ وَصَوْتِي لَا يَنْفُذُهُمْ؟ فَقِيلَ: نَادِ وَعَلَيْنَا الْبَلَاغُ ) - چنانچہ حضرت ابراہیم نے پکار کر کہا کہ لوگو! بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے آؤ۔ پھر پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ہر جگہ پہنچ گئی (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 414 )۔ اس واقعے کی اصل قرآن میں موجود ہے: وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ (22:27 )۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیغمبر ابراہیم کی یہ بات اگر بالکل لفظی معنوں میں ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر دوبارہ یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا (مسند احمد، حدیث نمبر 10607 )۔ یعنی اے لوگو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر حج فرض کیا ہے تو حج کرو۔ حضرت ابراہیم کا اعلان دراصل بات کو کہنے کا ایک اسلوب ہے۔ حضرت ابراہیم کا اعلان پر اس اس کی تکمیل کا اعلان نہیں تھا بلکہ وہ پر اس اس کے آغاز کا اعلان تھا۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ اس اہم اعلان کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان فرمایا۔ اس کے بعد آپ کی امت کے لوگ نسل در نسل اعلان کر رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اکثر غلط فہمی اسی لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایک پر اس اس کے تحت جاری واقعات کو ایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھتے۔ مثلاً اس معاملے میں وہ حضرت ابراہیم کے اعلان کو الگ واقعے کی حیثیت سے دیکھیں گے، اور پھر رسول اللہ کے اعلان کو الگ واقعے سمجھیں گے۔ پھر ان دونوں کو الگ الگ واقعہ سمجھ کر لکھنا اور بولنا شروع کر دیں گے۔ یہ غیر علمی نقطہ نظر ہے، اور اکثر حالات میں یہی غیر علمی نقطہ نظر لوگوں کے لیے اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page