29 جون 1985
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو حدیثیں وضع کی گئیں اس کے بہت سے محرکات تھے۔ ان میں سے ایک محرک دین کا مذاق اڑانا تھا۔ مثلاً یہود ونصاریٰ نے بعض چیزوں کو خود ساختہ طور پر اپنا مذہبی شعار بنا لیا تھا۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تم ان معاملات میں یہود و نصاریٰ کا انداز اختیار نہ کرو بلکہ اس سے مختلف طریقہ اختیار کرو (خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَیٰ)۔ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 2186۔ ایک شخص نے اس تعلیم کا مذاق اڑانے کے لیے ایک حدیث گھڑی اور کہا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر (3778)۔ یعنی گوشت کو چھری سے نہ کاٹو، کیوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے مذہبی شعار میں تشبہ سے منع کیا تھا۔ مگر کہنے والے نے ایک خود ساختہ مثال کے ذریعے اس کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اس قسم کی لاکھوں حدیثیں وضع کر کے لوگوں کے اندر پھیلادی گئیں۔ تاہم اس سے دین محفوظ کو کوئی خطرہ نہیں۔ عباسی خلیفہ ہارون رشید (148-193ھ) کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک حدیث وضع کرنے والے کو موت کی سزا دی تو اس نے کہا تھا: فأين أنت من ألف حديث وضعْتُها علی نبیک؟ فقال له: أين أنت يا عدوّ الله من أبي إسحاق الفزاري وابن المبارك؟ فإنهما يتصقّحانها فيُخرجانها حرفًا حرفًا (مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان، جلد 13، صفحہ (117)۔ یعنی تم کیسے ایک ہزار حدیثوں کو نکالو گے، جو میں نے تمھارے نبی پر گڑھی ہے۔ تو ہارون رشید نے کہا: اللہ کے دشمن تم ابو اسحاق الفزاری، اور ابن المبارک سے بچ نہیں سکتے، وہ دونوں اس کو غور سے دیکھیں گے، اور اس کو ایک ایک حرف کر کے نکال دیں گے۔ یہ معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader