اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف دو محدثین تک محدود نہیں ہے، ہارون رشید نے اس زمانے میں جاری ایک پراسس کی خبر دی، جس کو کثیر تعداد میں محدثین انجام دے رہے تھے۔ صحابہ کرام کے اقوال جو کتابوں میں آئے ہیں، وہ حد درجہ حکمت کی باتیں ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ کسی صحابی نے بھی کسی یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ پھر یہ علم ان کے اندر کہاں سے آیا۔ یہ علم ان کے اندر تقویٰ نے پیدا کیا۔ تقویٰ خود علم ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مسروق تابعی نے کہا: كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 6، صفحہ 142)۔ یعنی، آدمی کے علم کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔ صحابہ کرام اس علم خاص کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: مَنْ كَثُرَ ضِحْكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ، مَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ (المجم الکبیر للطبرانی، اثر نمبر 2259)۔ یعنی جو آدمی زیادہ ہنسے اس کا رعب کم ہو جائے گا۔ اور جو شخص ہنسی مذاق کرے گا، وہ لوگوں کی نظر میں ہلکا ہو جائے گا۔ حضرت عمر کے اس قول میں جو حکمت ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ 1985ء جولائی 8 1976 میں طرابلس (لیبیا) میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا عنوان تھا: Muslim Christian Dialogue میں نے بھی کانفرنس کے دعوت نامہ پر اس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ مجھے قبض (constipation) ہوگیا اور کئی دن تک اجابت نہیں ہوئی تو میں ہوٹل کے اس کمرے میں گیا جہاں شرکاء کانفرنس کے لیے دواؤں کا انتظام تھا۔ وہاں جو ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے ان سے میں نے قبض کی دوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader