Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

مانگی۔ ایک کافی بڑے ہال میں دواؤں کا انبار لگا ہوا تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب دیر تک تلاش کرنے کے بعد بھی قبض کی کوئی دوا نہ پاسکے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کے پاس اتنی ساری دوائیں ہیں اور قبض کی کوئی دوا آپ کے پاس نہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ہمارے پاس تو سب دست(diarrhea) کے مریض آ رہے ہیں۔ میں نے اپنے اور دوسروں کے بارے میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ میں بھوک سے کم کھاتا تھا اور دوسرے حضرات بھوک سے زیادہ۔ یہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ کھانے کی چیزیں نہایت افراط کے ساتھ مہیا کی گئی تھیں۔ کھانے کے مخصوص اوقات کے علاوہ بار بار(refreshment)دیا جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ خوب دھوم کے ساتھ کھاپی رہے ہیں۔ جب کہ میں اپنے مزاج کے مطابق زیادہ نہیں کھاپاتا تھا۔ دوسروں کو زیادہ کھانے کی وجہ سے دست ہوگیا اور مجھ کو کم کھانے کی وجہ سے قبض۔ 1985 جولائی 9 سید ابو اعلیٰ مودودی کی کتاب "پردہ" پڑھ رہا تھا۔ قوانین فطرت کے باب میں حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ملے: وسیع کائنات میں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہیں اور دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ہوا کی سرسراہٹ، پانی کی روانی، سبزہ کا رنگ پھولوں کی خوشبو، پرندوں کے چہچہے، فضا کی گھٹائیں، شب ماہ کی لطافتیں، غرض جمال فطرت کا کوئی مظہر اور حسن کائنات کا کوئی جلوہ ایسا نہیں ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ داعیات صنفی کو حرکت میں لانے کا سبب نہ بنتا ہو۔ مصنف نے یہ بات اپنے خیال سے اچھے معنی میں لکھی اور اس سے اچھا معنی نکالنے کی کوشش کی ہے۔ مگر میں نے اس کو پڑھا تو مجھے اپنے ذوق کے مطابق فطرت کا یہ حوالہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page