اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ پسند نہیں آیا۔ فطرت کے مناظر بے حد پر کشش ہیں۔ وہ آدمی کے اندر زبردست جذبہ ابھارتے ہیں۔ مگر اس معنی میں نہیں جس معنی میں مصنف نے لکھا ہے۔ مجھے فطرت کے مناظر بے حد پسند ہیں۔ میں گھنٹوں انھیں دیکھتا رہتا ہوں مگر مجھ کو یاد نہیں کہ میرے اندر مذکورہ بالا قسم کا جذبہ ابھرتا ہو۔ مجھ کو فطرت کے مناظر میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ فطرت کو دیکھ کر مجھے خدا کی یاد آتی ہے۔ شاعروں اور افسانہ نگاروں نے ضرور فطرت کو مذکورہ انداز میں پیش کیا ہے۔ مگر یہ فطرت کا کمتر اندازہ ہے۔ فطرت کا اعلیٰ استعمال یہ ہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر اس کے خالق کو یاد کرے۔ آدمی فطرت کے حسن کو دیکھے تا کہ یہ اس کے لیے ایک آئینہ بن جائے جس میں اس کو خالق کا چہرہ نظر آتا ہو۔ 10 جولائی 1985 ولیم ہاورڈٹافٹ (William Howard Taft, 1857-1930) امریکہ کے 27 ویں صدر تھے۔ ان کا زمانہ صدارت 1909 سے 1913 تک ہے۔ اس دوران امریکی پروٹوکول کے مطابق، ان کو وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں قیام کرنا پڑا، جو کہ امریکہ کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور بنیادی آفس ہے۔ وائٹ ہاؤس میں سخت حفاظتی انتظامات رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے صدر کو ایک لمحہ کے لیے بھی پرائیویسی (privacy) کی زندگی حاصل نہیں ہوتی۔ وہ ہر وقت نگرانوں کے پہرے میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ صدر ٹافٹ نے اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس دنیا کی وہ جگہ ہے جہاں آدمی سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے : White House is the loneliest place in the world. یہ آدمی کی ایک ضرورت ہے کہ وہ پرائیویسی (privacy) حاصل کر سکے ۔ وہ محسوس کرے کہ وہ اپنی دنیا میں ہے جہاں دوسروں کا دخل شامل نہیں۔ مگر ”بڑے لوگ “ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ فطرت انسانی کی اس طلب کا ان کے یہاں کوئی خانہ نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader