Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں ان بڑے لوگوں کو مستقل طور پر اضطراب میں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے ماحول سے کبھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ مگر اقتدار کا نشہ ایسی چیز ہے جو ہر چیز پر غالب آجاتا ہے۔ آدمی ہر حال میں اقتدار کے منصب پر بیٹھنا چاہتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اسے خود اپنی شخصیت کو قتل کر دینا پڑے۔ 11 جولائی 1985ء میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ خواہ اس کی غلطی کو کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ واضح کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں میرے بہت سے تجربات ہیں۔ ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے، جو مولانا عامر عثمانی (وفات 1975) سے متعلق ہے۔ 1963 میں میری کتاب ”تعبیر کی غلطی“ چھپی تو لوگوں نے عامر عثمانی صاحب سے کہا کہ وہ اس کا جواب لکھیں۔ عامر عثمانی صاحب اکثر جماعت اسلامی کا دفاع کیا کرتے تھے، اور اپنے تفریحی انداز کی وجہ سے کافی پڑھے جاتے تھے۔ میری معلومات کے مطابق ابتدا میں انھوں نے گریز کیا۔ مگر جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو انھوں نے ایک لمبا مضمون لکھا جو 1965 کے آغاز میں ان کے رسالہ تجلی (فروری۔ مارچ 1965، صفحہ 99-124) میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا: مولانا وحید الدین خانصاحب کی تعبیر کی غلطی۔ یہ مضمون واضح طور پر اس کا ثبوت تھا کہ عامر عثمانی صاحب اپنے آپ کو علم کے میدان میں عاجز پا رہے ہیں۔ چنانچہ اس میں اصل نقطہ نظر کی علمی تردید کی کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ مختلف انداز سے اس کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ”تنقید یا مسخرہ پن“ یہ مضمون اولا ماہ نامہ نظام (کانپور) میں دسمبر 1965 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد دوسرے جرائد میں نقل کیا گیا۔ میرے اس مضمون کی اشاعت کے بعد جناب عامر عثمانی مزید دس سال تک زندہ رہے۔ مگر وہ اس موضوع پر بالکل خاموش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page