Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گئے۔ پھر انھوں نے کبھی تعبیر کی غلطی کا رد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ اس کے بعد انھوں نے تجلی (جولائی۔ اگست 1966) کا ”حاصل مطالعہ نمبر“ نکالا۔ اس میں انھوں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سمیت متعدد شخصیتوں کی منتخب تحریریں شائع کیں اور ان پر تبصرے۔ مگر انھوں نے سب سے زیادہ شاندار ذکر راقم الحروف کا کیا۔ اس کتاب کا پہلا مضمون راقم الحروف کی کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ سے متعلق تھا اس کے اعتراف میں انھوں نے اپنے وہ آخری الفاظ صرف کر دئے جوان کے پاس موجود تھے۔ جناب عامر عثمانی صاحب کا یہ مضمون ”پچاس فی صداعتراف“ کا ثبوت ہے۔ مگر افسوس کہ دوسروں میں اتنے اعتراف کی بھی جرأت نہیں۔ 12 جولائی 1985 میں جن لوگوں سے اپنی زندگی میں غیر معمولی طور پر متاثر ہوا ان میں سے سے ایک مولانا عبد الباری ندوی (1976-1886) ہیں ۔ ان سے نہ صرف میری ملاقاتیں ہوئی ہیں بلکہ ایک مختصر عرصہ تک میں ان کی رہائش گاہ پر مقیم بھی رہا ہوں۔ موصوف مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا تھانوی نے ان کو رسمی بیعت کے بغیر مرید کیا تھا، یعنی مولانا اشرف علی تھانوی نے ان سے مجازی بیعت لی تھی۔ جن دنوں میں ان کے یہاں مقیم تھا (غالباً یہ 1967 کے اوائل کی بات ہے)، میں نے ایک روز ان سے کہا کہ آپ مجھے بیعت کر لیجیے ۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ خوش رہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پیدائشی صوفی ہیں۔ آپ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ کو اسی طرح اپنے حلقہ بیعت میں لیتا ہوں جس طرح مولانا تھانوی نے مجھ کو اپنے حلقہ بیعت میں لیا تھا۔ مولانا عبد الباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے مجھ کو ایک خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page