12 جولائی 1985
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
باقی میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں۔ مولانا عبد الباری ندوی کے بارے میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا’’مسٹر مولوی‘‘۔ یہ الجمعیۃ و یکی 7 مارچ اور 14 مارچ 1969 میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔ 13 جولائی 1985 میں 1948 میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور جلد ہی اس کا رکن بنالیا گیا۔ اس زمانے میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔ 1950 کے لگ بھگ زمانہ میں میرا یہ خیال ہوا کہ میں پاکستان چلا جاؤں، اور وہاں پر کوئی کام کروں۔ رکن جماعت کی حیثیت سے میرے لیے ضروری تھا کہ میں امیر جماعت اسلامی ہند سے اس کی اجازت حاصل کروں۔ اس وقت مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی جماعت اسلامی ہند کے امیر تھے۔ میں نے ان کو اجازت کے لیے خط لکھا تو انھوں نے اجازت نہ دی۔ ان کو یہ تردد تھا کہ میں پاکستان جا کر کوئی کام نہ کر سکوں گا، اور وہاں مشکلات میں پھنس جاؤں گا۔ اس خط و کتابت کا ذکر میں نے مقامی امیر ماسٹر عبد الحکیم انصاری صاحب سے کیا۔ وہ میری تجویز سے متفق ہو گئے، اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ پاکستان چلے جائیں۔ وہاں آپ کو کام کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ چوں کہ مولانا ابو اللیث صاحب (امیر جماعت اسلامی ہند) مجھے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اس لیے انھوں نے مولانا ابو اللیث صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھا۔ اس خط میں میری تجویز کی پرزور تائید کرتے ہوئے انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں سے ایک جملہ یہ تھا: ”میں وحید الدین خاں کو عرصہ سے جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک بار طے کر لیں تو ہمالیہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیں“۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader