Urdu book · اوراقِ حکمت

12 جولائی 1985

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

ماسٹر عبد الحکیم صاحب کا یہ خط مولانا ابو اللیث صاحب کو بھیج دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے مجھے اجازت دے دی۔ اگر چہ بعد کو خود میری رائے بدل گئی، اور میں پاکستان نہ جا سکا۔ دورِ اول کے مسلمانوں کی اٹھان تواضع (modesty) پر ہوئی تھی، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اٹھان فخر (pride) پر ہوئی ہے۔ ایک لفظ میں یہی وہ فرق ہے جس نے دورِ اول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر دیا ہے، جسے کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ دورِ اول کے مسلمانوں کا آغاز خدا کی دریافت سے ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کی عظمت و کبریائی کو اپنے دل و دماغ میں اتارا تھا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سراپا تواضع بن گئے تھے۔ ان کا سینہ ذاتی بڑائی کے احساس سے آخری حد تک خالی تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دو بیماری اپنے ”شاندار“ ماضی کی دریافت سے آئی ہے۔ ایک، شبلی نے انھیں ”ہیرو ان اسلام“ کا تعارف کرایا۔ دوسرا، اقبال نے ان کو ماضی کی عظمت کے حصول کے لیے آفاقی بلند پروازی کا درس دیا۔ اسی طرح ہر ایک ماضی کی عظمتوں کو یاد دلا کر ان کے اندر جوش ابھارنے کی کوشش کرتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان ”خدا کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان“ اپنی تاریخ کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بنیادی بات ہے جس نے دونوں گروہوں کی سوچ میں فرق پیدا کر دیا ہے۔ دورِ اول کے لوگوں کو خدا کی عظمت کے احساس نے تواضع کا ذہن دیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظمت کے احساس نے فخر کا ذہن دیا ہے۔ تواضع کا ذہن تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کے مقابلہ میں جھوٹا فخر (false pride) تمام خرابیوں کا سر چشمہ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح کا مقام آغاز یہی ہے کہ ان کے اندر سے جھوٹے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page