Urdu book · اوراقِ حکمت

1985 جولائی 17

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ مثل محمد ممتنع الوجود (نا ممکن) ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے بلکہ خاتم الانبیاء تھے، اور خاتم الانبیاء کا مرتبہ کسی ایک ہی شخص کو مل سکتا ہے۔ اس لیے مثل محمد مقدر حق سبحانہ نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خاتم الانبیاء کا مماثل (مانند) پیدا کرنے پر خدا قادر نہیں۔ اس پر مولانا حیدر علی رام پوری نے لکھا کہ ابن عباس کا ایک اثر ہے جس کے مطابق اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں الگ الگ انبیاء ہیں (سَبْعَ أَرْضِينَ فِي كُلِّ أَرْضِ نَبِيّ كَنَبِيِّكُمُ) مستدرک الحاكم، اثر نمبر 3822۔ اس اثر سے استناد کر کے انھوں نے کہا کہ اللہ مثل خاتم الانبیاء پیدا کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ جب سات زمینیں ہیں تو سات خاتم الانبیاء کی ضرورت ہوئی۔ مرزا غالب (1869-1797) نے ایک اور نکتہ نکالا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ عالم میں تو ایک خاتم الانبیاء کے سوا دوسرا خاتم الانبیاء پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن خدا اس پر قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کرے اور اس میں موجودہ عالم کے خاتم الانبیاء کی طرح ایک اور خاتم الانبیاء مبعوث فرمائے۔ اس طرح کی بحثیں برسہا برس تک جاری رہیں۔ دونوں طرف سے عجیب عجیب دلائل دیے جاتے رہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں مسلمانوں کے ذہنی افلاس (intellectual dwarfism) کا حال کیا ہو گیا تھا۔ بے معنی موشگافیوں کو وہ علم سمجھتے تھے اور بے فائدہ بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں۔ دانیال لطیفی صاحب (پیدائش 1917) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ (بیرسٹر)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page