اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
قرار پاتی ہیں۔ کیوں کہ ان تحریکوں کا نشانہ کچھ خارجی چیزوں کی تبدیلیاں تھی، نہ کہ اندرونی تبدیلی۔ کسی کا نشانہ تبدیلی حکومت تھا، اور کسی کا نشانہ تبدیلی جغرافیہ، کسی کا نشانہ تبدیلی قیادت تھا، اور کسی کا نشانہ تبدیلی قانون ۔ موجودہ زمانہ کی وہ تمام ہنگامہ خیز تحریکیں جن پر مسلمان فخر کرتے ہیں، وہ سب اسی قسم کی خارجی تبدیلیوں کا نعرہ لے کر اٹھیں۔ ان میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں جو تبدیلی قلب (یا تبدیلی انسان) کے منصوبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔ خارجی تبدیلی کو نشانہ بنا کر جو انقلاب لایا جائے اس کا انجام ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے— ایک برائی کو ہٹا کر دوسری شدید تر برائی لے آنا۔ کسی شخص نے نہایت صحیح کہا ہے: A revolution is a successful effort to replace a bad government with a worse one. انقلاب اس بات کی ایک کامیاب کوشش ہے کہ ایک بری حکومت سے چھٹکارا پا کر اس سے زیادہ بری حکومت قائم کی جائے۔ 14 اگست 1985 شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ سکھ اور مرہٹہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ سکھ اور مرہٹہ راستہ سے ہٹا دئے گئے۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں باقی رہا۔ شاہ عبدالعزیز اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ انگریز سے اسلام کو خطرہ ہے۔ انگریز کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا جو مسئلہ تھا وہ حل نہ ہوا۔ محمد علی جناح اور دوسرے مسلم لیڈروں نے کہا کہ ہندو فرقہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ ہندو سے کٹ کر مسلمانوں کی علیحدہ ریاست قائم ہوگئی۔ مگر اس کے باوجود اسلام مسائل سے گھرارہا۔ مولانا ابو الکاعلیٰ مودودی اور ان کے ہم خیال لوگوں نے کہا کہ ایوب اور بھٹو سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader