Urdu book · اوراقِ حکمت

26اگست 1985

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

26اگست 1985 بہت سے لوگوں سے میں نے پوچھا کہ آپ کی زندگی کی خاص دریافت کیا ہے۔ یہ سوال میں نے زیادہ تر ان لوگوں سے پوچھے جو صاحب علم تھے اور جنھوں نے زندگی کا لمبا تجربہ اٹھایا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اکثر لوگوں نے میرے سوال کا جواب اس انداز میں دیا جیسے کہ ان کی کوئی دریافت ہی نہ ہو، جیسے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کوئی نئی چیز پائی ہی نہ ہو۔ اس کا سبب کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر لوگ روایتی طریقے میں جیتے ہیں۔ جو کچھ دوسرے لوگ کر رہے ہیں، وہی وہ بھی کرنے لگتے ہیں، اور اگر کوئی شخص دوسرے کے مقابلہ میں اپنا راستہ بدلتا ہے تو محض ظاہری اور جزئی معنوں میں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو کوئی نئی دریافت کیوں کر ہو سکتی ہے۔ 27اگست 1985 اسلامی اصطلاح میں ہجرت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، داخلی ہجرت (الهجرة الداخلية) دوسری، خارجی ہجرت (الهجرة الخارجية)۔ داخلی ہجرت بڑی ہجرت (الهجرة الكبرى) ہے، اور خارجی ہجرت چھوٹی ہجرت (الهجرة الصغرى) ہے۔ داخلی ہجرت کو مختلف احادیث رسول سے سمجھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: المُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6484)۔ یعنی مہاجر وہ ہے، جو اس کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ایک بار پوچھا گیا: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 19435)۔ یعنی سب سے افضل ہجرت کون سی ہے؟ آپ نے جواب دیا: یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ داخلی ہجرت اور داخلی جہاد کو ایک حدیث رسول میں ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page