26اگست 1985
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
الفاظ بیان کیا گیا ہے: وَالْمُهَاجِرُ مِنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو ترک کردے، اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے لڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مواقع پر داخلی جہاد کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ ان میں سے بعض روایات درج ذیل ہیں: المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 1621)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23951)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اللہ کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم تھی جس میں کوئی جنگ پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَدِمْتُمْ مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ . قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ ( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، جلد 13، صفحہ 498۔ البیہقی، الزہد الکبیر، حدیث نمبر 373)۔ تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے کہا: جہاد اکبر کیا ہے، اے خدا کے رسول، آپ نے کہا: بندے کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی ”چھوٹی ہجرت“ اور ”چھوٹے جہاد“ کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ مگر بڑی ہجرت اور بڑے جہاد کی کسی کو خبر نہیں۔ سائنس کی تاریخ میں اکثر بڑی دریافتیں اتفاق (chance) کے ذریعہ پیش آتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader