Urdu book · اوراقِ حکمت

26اگست 1985

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ سائنس دانوں نے اس کے لیے ایک خاص لفظ وضع کیا ہے، جس کو سرینڈ پیٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ سرندیپ کی ایک کہانی سے لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ سائنسی دریافتوں کو خوش گوار واقعات (happy accidents) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اکسرے (x-rays) کی دریافت اتفاقی طور پر ہوئی۔ تاہم یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اتفاق بذات خود دریافت تک پہنچاتا ہے۔ ہندستانی سائنس داں سی وی رمن (Chandrasekhara Venkata Raman, 1888-1970) نے صحیح کہا: ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے۔ یعنی ایک شخص جو باتوں کو جانتا ہو اور وہ تحقیق میں لگا ہوا ہو، وہی بوقت اتفاق کسی بات کو پکڑ سکتا ہے۔ اسی بات کو فرانس سائنس داں پاسچر (Louis Pasteur, 1822-1895) نے ان الفاظ میں کہا تھا: مشاہدات کے میدان میں اتفاق صرف تیار ذہن کے لیے کارآمد ہوتا ہے: In the field of observation, chance favours only the prepared mind. اکسرے کا موجد را نجن (Wilhelm Conrad Röntgen, 1845-1923) قرار پایا۔ حالاں کہ اس سے پہلے یہ کرو کس (William Crookes, 1823-1919) کے مشاہدہ میں آئی تھی۔ مگر اس نے اس کو بے معنی (nonsense) قرار دے کر نظر انداز کر دیا، وغیرہ۔ نئی چیز دریافت کرنے کے لیے سب سے اہم چیزیں دو ہیں۔ ایک، تجسس (curiosity)، دوسرے یہ کہ آدمی وہ ضروری معلومات رکھتا ہو جس کے بعد وہ ایک چیز کو دوسری چیز سے وابستہ (link) کر سکے۔ انگریز شاعر اور ڈراما نگار ٹامس شیڈول (Thomas Shadwell, 1642-1692)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page