اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے ۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔ 20 ستمبر 1985 اناتول فرانس(1944-1844, Anatole France) کا قول ہے کہ یہ آدمی کی فطرت ہے کہ وہ دانش مندانہ طور پر سوچتا ہے، مگر بیوقوفی کے ساتھ عمل کرتا ہے: It is human nature to think wisely and act foolishly. یہ بات بذاتِ خود صحیح ہے۔ مگر اس کی وجہ انسانی فطرت نہیں، بلکہ انسانی عادت ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ معاملات میں دانش مندانہ طور پر سوچ سکے۔ مگر عمل کرتے وقت وہ بے وقوف بن جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سوچ کے وقت تو غیر جانب دار رہتا ہے۔ مگر عمل کے وقت اپنی غیر جانب داری کو باقی نہیں رکھ پاتا۔ صحیح عمل اکثر اپنی ذات کی نفی پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنی ذات کی نفی پر راضی نہیں ہوتا، اس لیے وہ صحیح عمل بھی نہیں کر پاتا۔ 21 ستمبر 1985 اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلا شرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔ صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جا سکتا ہے ۔ وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظر انداز کر کے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader