اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ جو لوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔ 23ستمبر 1985 شہر کی تعمیرات اور اس کے تمدنی مظاہر کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا:”انسان کے بغیر یہ تمدن نہیں، اسی طرح خدا کے بغیر یہ کائنات نہیں۔“۔ 24ستمبر 1985 نادر شاہ افشار(1747-1688) ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ 1736 سے 1747 تک ایران کا بادشاہ رہا۔ ایک مرتبہ اس کو یہ شبہ ہوا کہ اس کا لڑکا یہ سازش کر رہا ہے کہ وہ باپ کو ہٹا کر خود تخت پر بیٹھ جائے۔ نادر شاہ نے اپنے جوان لڑکے کو گرفتار کیا اور اس کی آنکھیں نکال کر اس کو اندھا کر دیا۔ مگر نادر شاہ کی یہ بے رحمی اس کو اقتدار پر باقی رکھنے میں معاون نہ ہوسکی۔ جلد ہی اس کی فوج میں اس کے مخالفین پیدا ہو گئے، اور نادر شاہ خود اپنے فوجیوں کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر کوئی ان سے سبق نہیں لیتا۔ ہر آدمی اپنے دائرے میں دوبارہ وہی کرتا ہے، جو نادر شاہ نے اپنے دائرے میں کیا تھا۔ 25ستمبر 1985 ایک صاحب نے الرسالہ کے مشن سے پورا اتفاق کیا۔ میں نے کہا کہ جب آپ کو الرسالہ سے اتفاق ہے تو اس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلائیے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تو میں صرف خود پڑھتا ہوں۔ آئندہ ایسا بھی کروں گا کہ ایجنسی لے کر اس کو دوسروں تک پہنچاؤں۔ میں نے کہا کہ کرنے کا کام آج کیا جاتا ہے، کل نہیں کیا جاتا۔ جس شخص نے معاملے کو کل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader