Urdu book · اوراقِ حکمت

23ستمبر 1985

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

(tomorrow) کے خانہ میں ڈالا، اس نے معاملہ کو نہیں کے خانے میں ڈال دیا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6412)۔ یعنی عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: دو نعمتیں ہیں جن میں انسانوں میں سے بہت سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں۔ تندرستی اور فرصت۔ یعنی آدمی ایک کام کو کرنے کا کام سمجھتا ہے، مگر وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب تندرستی ہوگی تو کر لوں گا یا جب فرصت ہوگی کر لوں گا۔ حالاں کہ یہ زبردست بھول ہے۔ جو آدمی عذر کے فریب میں رہے وہ کبھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عذر کو نظر انداز کر کے کام کیا جائے۔ ایک انگریزی مقولہ اس حدیث کی بہترین تشریح ہے۔ وہ مقولہ یہ ہے کہ اگر تمھارے پاس ایک اچھا عذر ہے تب بھی اس کو استعمال نہ کرو: If you have a good excuse, don't use it. 28 ستمبر 1985 پیسہ خرچ کرنے کے سلسلے میں قرآن میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے: ﴿وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا﴾ (17:29)۔ یعنی، اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ حدیث میں آیا ہے: مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ (مسند احمد، حدیث نمبر 4269)۔ یعنی جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔ اکثر پریشانیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اخراجات میں اعتدال کی حد پر قائم نہیں رہتا۔ شادی کرنا، گھر بنانا، اور اس طرح کے دوسرے اخراجات کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page