Urdu book · اوراقِ حکمت

23ستمبر 1985

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی طاقت سے زیادہ خرچ کر ڈالتا ہے۔ اگر ایسے مواقع پر اپنی وسعت کو دیکھا جائے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کو، تو کبھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ اینڈریو کارنیگی (1919-1835) نے اسٹیل کی صنعت میں کافی ترقی کی۔ 1889 میں اس نے ایک مقالہ شائع کیا جس کا نام تھا دولت کی بائبل (The Gospel of Wealth)۔ اس مقالہ میں اس نے بتایا کہ دولت مند آدمی جب دولت حاصل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت کو رفاہ عام کے کام میں لگائے: A rich man should, after acquiring his wealth, distribute the surplus for the general welfare. (Andrew Carnegie) یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اینڈریو کارنیگی نے جو بات سماجی اصطلاح میں کہی وہی بات پیغمبر اسلام نے مذہبی اصطلاح میں اس طرح کہی ہے کہ خدا تمہیں دولت دے تو تم دائیں بائیں اور آگے پیچھے خرچ کرو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 990)۔ یہ اصول نہ صرف آخرت کی فلاح کا ضامن ہے بلکہ دنیا کی ترقی بھی اسی سے ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کئی ملکوں میں بیرونی افراد کے خلاف سخت ناراضگی پیدا ہوئی۔ مثلاً افریقن ملک یوگنڈا میں ایشیائی لوگوں کے خلاف، سری لنکا میں تامل والوں کے خلاف، پاکستان میں مہاجرین کے خلاف، وغیرہ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ان لوگوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا، مقامی آبادی پر خرچ نہیں کیا۔ جو تجارتی قومیں اس راز سے واقف ہیں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مستقل طور پر مقامی آبادی کی فلاح پر خرچ کرتی ہیں ۔ چنانچہ وہ نہایت کامیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں جینی فرقہ اور پارسی فرقہ۔ یہ لوگ بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی دولت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page