Urdu book · اوراقِ حکمت

23ستمبر 1985

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

کا بڑا حصہ ان کے قبضہ میں ہے۔ مگر آج تک ان کے خلاف کوئی ردِعمل نہیں ہوا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسروں کے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، تعلیمی وظائف وغیرہ وغیرہ۔ 1 اکتوبر 1985 علمائے تفسیر کا کہنا ہے کہ قرآن کی تفسیر کا مصدر اول خود قرآن ہے۔ اور قرآن کی تفسیر کا مصدر دوم وہ حدیث کو قرار دیتے ہیں۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں ہے: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (1:7)۔ یعنی ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستے سے بھٹک گئے۔ یہاں سوال ہے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں۔ حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہودی ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ (مسند احمد، حدیث نمبر 19381)۔ اسی طرح قرآن میں ہے: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60)۔ یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت۔ یہاں قوت سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلہ میں حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1917)۔ جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ تاہم ان مصادر (sources) کے ساتھ ایک اور چیز انتہائی ضروری ہے، اور وہ ہے فقہ (حکمت و بصیرت)۔ اگر فقہ نہ ہو تو آدمی فرسٹ مصدر اور سیکنڈ مصدر کا ماہر ہونے کے باوجود قرآن کی درست تفسیر نہ کر سکے گا۔ مثلاً پہلی آیت (الفاتحه، 7: 1) کی تفسیر میں مذکور حدیث میں صرف آدھی بات ہے۔ مکمل بات ایک دوسری حدیث کو ملانے سے سمجھ میں آتی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں امتِ مسلمه کے بارے میں آیا ہے: لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page