23ستمبر 1985
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
قَبْلِكُمْ، شِبْرًا بِشِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعِ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبِّ تَبِعْتُمُوهُمْ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: فَمَنْ ( صحيح البخاری ، حدیث نمبر 7320) ۔ یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی ضرور اس میں داخل ہو جاؤ گے، ہم نے کہا: اے خدا کے رسول، یہود ونصاریٰ، آپ نے کہا: اور کون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعد جو کچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے۔ ان دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں مغضوب اور ضالین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے زوال یافتہ ذہنیت کی وجہ سے خدا کی ناراضگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہود و نصاری نے ایسا کیا تھا، بعد کے زمانے میں امت محمدی پر ایسا وقت آ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری آیت (الانفال، 8:60) کی تفسیر میں مذکور حدیث کو بھی بالکل لفظی معنی میں لے لیا جائے تو اسلام ایسی سائیکل کی مانند بن جائے گا، جس کا ہینڈل کس دیا گیا ہو، اور وہ سائیکل دائیں بائیں گھوم نہیں سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری آیت کی یہ تفسیر ایک زمانی تفسیر ہے، نہ کہ ابدی تفسیر۔ اگر اس تفسیر کو ابدی تفسیر قرار دیا جائے تو بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے فوجی قوت کے لیے جو نئے نئے اضافے کیے، وہ سب غیر اسلامی قرار پائیں گے ۔ یا کم از کم یہ کہ بدلتے ہوئے زمانہ کے لحاظ سے دفاعی قوت کی فراہمی کے لیے قرآن سے انحراف ضروری ہوگا۔ ورنہ ہم اپنے دور کے لحاظ سے اپنے کو طاقت ور نہیں بنا سکتے۔ بعض حدیثیں نقد داخلی ہی کے معیار پر غیر معتبر ثابت ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث ان الفاظ میں آتی ہے: وَفَضْلُ شَهْرِ شَعْبَانَ عَلَى الشُّهُورِ كَفَضْلِي عَلَى سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader