Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اور وہ یہ کہ آئندہ آنے والے دور میں انسانی سماج میں سب سے زیادہ ضرر کا سبب عورتیں بنیں گی ۔ اس دور میں عورتیں مردوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جائیں گی ۔ جس زمانے میں محترمہ انیس جنگ نے اپنی کتاب لکھی ہے ، اس زمانے میں یہ پیشین گوئی اپنی کامل صورت میں سامنے آچکی ہے ۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جدید دنیا کے معاشرتی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ” جدید عورت “ ہے ۔ آج آزادی نسواں کے نام پر عورت کا جو حال کیا گیا ہے اس نے جدید معاشرہ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ عورت باعتبار تخلیق کوئی بری چیز ہے ۔ اس میں صرف عورت کے اس غلط استعمال کا ذکر ہے جس کے نتیجہ میں عورت سماج کے لیے خطرہ بن جاتی ہے ۔ 14 اکتوبر 1985 مولانا امیر اللہ خاں قاسمی ایک عربی مدرسہ چلاتے ہیں ۔ انھوں نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ بتایا ۔ ایک سفر میں ان کی ملاقات ایک عرب سے ہوئی ۔ عرب نے گفتگو کے دوران کہا : چِنْسُکَ جَیِّدُ مولانا امیر اللہ صاحب اس جملہ کو سمجھ نہ سکے ۔ انھوں نے عرب سے دوبارہ پوچھا کہ ” چنسک “ کا مطلب کیا ہے ۔ اس نے کاغذ پر لکھ کر بتایا تو معلوم ہوا کہ وہ کہہ رہا ہے : تمھارا چانس ( chance ) بہت اچھا ہے ۔ عربوں میں انگریزی الفاظ کتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں ، اس کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے ۔ 5 اکتوبر 1985 قرآن کے سلسلہ میں ایک مسئلہ اختلاف قرآت کا ہے ۔ مگر اختلافِ قرأت کا مطلب اختلاف متن نہیں ہے ۔ قرآن میں جو اختلافِ قرأت ہے وہ دو قسم کا ہے ۔ ایک وہ اختلاف جو لہجہ ( accent ) کے فرق کا نتیجہ ہے ۔ چوں کہ عرب کے مختلف قبائل میں الفاظ کی ادائیگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page