Urdu book · اوراقِ حکمت

5 اکتوبر 1985

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بعض فرق پایا جاتا تھا، اِسی بنا پر قرآن کی قرأت میں بھی بعض مقامات پر فرق ہو گیا۔ مثلاً مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (1:4) کے بجائے مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (ميم کے بعد الف کے بغیر) یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1:114) کی جگہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاتِ، وغیرہ۔ اس قسم کا فرق صرف پڑھنے کا فرق ہے، ان میں کتابت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ اختلاف قرأت کی دوسری صورت وہ ہے جس میں لفظ کا فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے: اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ (17:93)۔ یعنی یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر ہو جائے۔ اس آیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے پڑھا: اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ ذَهَبٍ (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سورہ الجمعہ میں ہے: فَاسْعَوْا اِلَى ذِكْرِ اللهِ (62:9)۔ یعنی، اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو۔ اس کو بعض صحابہ نے اس طرح پڑھا: فَامْضُوا اِلَى ذِكْرِ اللهِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سور البقرہ میں ہے: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ (2:198)۔ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ اس کو ابن عباس نے اس طرح پڑھا ہے: لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ (فضائل القرآن للقاسم بن سلام، صفحہ 325)۔ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو حج کے زمانے میں۔ اختلاف قرأت کی یہ دوسری مثالیں قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ تفسیر کی قببیل سے ہیں۔ یعنی صحابی نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک نیا لفظ استعمال کیا تا کہ مخاطب اس کو سمجھ سکے۔ ورنہ دنیا میں ایسا کوئی قرآن موجود نہیں جس میں متن کی کتابت اس دوسرے طریقے سے کی گئی ہو ۔ کسی عبارت کے مفہوم کو کھولنے کے لیے اس کے لفظ کو بدلنا پڑتا ہے۔ اختلاف قرأت کی دوسری قسم کا مطلب یہی ہے، صحابہ نے تفہیم کے مقصد سے لفظ بدل کر پڑھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page