اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے حکم سے کئی مؤذنوں کی تقرریاں ہوئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال ان مؤذنوں کے صدر تھے۔ جب کوئی حکم ہوتا تو حضرت بلال کے واسطے سے تمام دوسرے لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جاتا۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: أَمَرَ بِلالاً أَنْ يُشْفِعَ الْأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 627)۔ یعنی آپ نے بلال کو حکم دیا کہ وہ اذان میں تشفیع کرے اور اقامت میں ایثار کرے۔ اس قسم کی روایتوں کا مطلب احناف اس طرح بتاتے ہیں: أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ مِنْ أَنْ يُشَفِّعَ الْأَذَانَ: بِالصَّوْتِ، فَيَأْتِيَ بِصَوْتَيْنِ صَوْتَيْنِ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ فِي الصَّوْتِ (تجريد القدوری، جلد 1، صفحہ 419)۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اذان میں شفع کرے، اس کو دو دو (اونچی) آواز میں ادا کرے، اور اقامت کو اکہری (نیچی) آواز میں ادا کرے۔ فَمَحْمُولٌ عَلَى إِيثَارِ صَوْتِهَا بِأَنْ يُحَدِّرَ فِيهَا ... لَا إِيثَارِ أَلْفَاظِهَا (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 447)۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ اس کی آواز میں ایثار ہو، یعنی وہ اقامت میں جلدی جلدی پڑھے، نہ کہ الفاظ میں ایثار (ایک ایک مرتبہ)۔ اس کے برعکس شوافع وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہاں تشفیع اور ایثار کا مطلب یہ ہے کہ اذان کے کلمات دو بار ادا کیے جائیں اور اقامت کے کلمات ایک بار ۔ حدیث میں تعمق اور تدقیق (hair-splitting) نے کیسے عجیب عجیب اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔ 18 اکتوبر 1985 جناب فرید الوحیدی صاحب جدہ میں رہتے ہیں۔ ان کا قدیم وطن دیوبند تھا۔ اب وہ سعودی شہری ہو چکے ہیں اور وہاں کے ایک کامیاب تاجر ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کا تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا جو چیونٹی بن کر رہتا ہے وہ شکر کھاتا ہے، جو شیر بن کر رہتا ہے وہ گولی کھاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader