پیش لفظ
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بارے میں بتایا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں ان اخوانیوں پر رحم نہیں کروں گا۔ انور سادات نے اسکندریہ کے شیخ المحلاوی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور اس کے بعد تقریر کرتے ہوئے، محمد سعید مراد کے الفاظ میں، کہا: قالَ السَّاداتُ عَنْهُ فِي خُطْبَتِهِ عِنْدَما كانَ يَتَحَدَّثُ عَنِ الجَماعاتِ الإِسْلامِيَّةِ اعْتِقَلَها۔ ”وہناك رَجُلٌ مِنَ الإِسْكَنْدَرِيَّةِ كانَ يُهاجِمُ النِّظامَ وَلَكِنَّهُ الآنَ مَرْمِيٌّ فِي السِّجْنِ مِثْلَ الكَلْبِ، يَقْصِدُ الشَّيْخَ المَحَلاوِيَّ. وكانَ السّاداتُ يَقولُ فِي خِطابِهِ تَكراراً: إِنِّي لَمْ أَرْحَمْ هذِهِ الجَماعاتِ.“ (اسکندریہ میں ایک آدمی ہے، وہ حکومت سے ٹکراؤ کرتا ہے، لیکن اب وہ جیل میں کلب کی مانند بند ہے۔ ان کی مراد شیخ المحلاوی تھے۔ اور سادات اپنی تقریروں میں بار بار کہا کرتے تھے کہ میں ان جماعتوں پر رحم نہیں کروں گا) انور سادات کے یہ الفاظ بہت سخت معلوم ہوتے ہیں۔ مگر اس میں پچاس فی صد غلطی اگر انور سادات کی ہے تو پچاس فی صد غلطی ان حضرات کی جو حکومت ٹکراؤ کی سیاست کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی ادارہ ہو۔ اگر وہاں کوئی شخص ادارے کے صدر کا مخالف بن جائے تو اس کے ساتھ بقدر استطاعت ادارے کے لوگ وہی سلوک کریں گے، جو اپنی استطاعت کے دائرے میں انور سادات نے اپنے مخالفوں سے کیا۔ انور سادات اور ان کے جیسے حکمرانوں کے ظلم کی داستان سنانے والے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ یہ وہی سلوک ہے جو خود اپنے اداروں میں ہو رہا ہے: این گناہیست که در شهر شما نیز کنند سارے قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں فطرت کے مظاہر کی ایسی توجیہہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader