اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عرب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول سنایا : اِنَّ لِلّٰہِ عِبَادًا يُمِيْتُوْنَ الْبَاطِلَ بِھِجْرِھِ (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 55)۔ یعنی بے شک اللہ کے کچھ بندے ہیں، جو باطل کو مٹاتے ہیں، اس کو ترک کر کے۔ انھوں نے اس کو پسند کرتے ہوئے کہا کہ اسی مفہوم کا ایک مقولہ عربوں میں رائج ہے جو کہ اس طرح ہے : لَوْ اَنَّ الْکَلَامَ مِنْ فِضَّۃٍ لَکَانَ السُّلُوْتُ مِنْ ذَھَبٍ (الزھد لابن ابی عاصم، اثر نمبر 33)۔ یعنی بولنا اگر چاندی ہو تو چپ رہنا سونا (gold) ہے۔ 10 اکتوبر 1985 سترھویں صدی کے فرانس کا رائٹر اور مفکر جین دی لابروپیر (Jean de La Bruyère, 1645-1696) کا قول ہے کہ اس دنیا میں صرف دو طریقے ہیں جن کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو اوپر اٹھا سکتا ہے۔ یا تو اپنی ذاتی محنت سے یا دوسروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر: In the world there are only two ways of raising one self, either by one's own industry or by the weakness of others. اس کی ایک مثال ہندوستان ہے، اور دوسری مثال جاپان کی جدید تاریخ ہے۔ ہندوستان نے 1947 میں جو آزادی حاصل کی، وہ دراصل دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے زبردست ترقی حاصل کی۔ اس کا راز جاپانی قوم کی وہ محنت تھی جو اس نے جنگ میں شکست کے بعد مسلسل انجام دی۔ موجودہ زمانے کے قائدین نے مسلمانوں کے جذباتی احساس کو بھرپور طور پر استعمال کیا ہے۔ ہر وہ مسلم قائد جس نے موجودہ زمانے میں بڑی مقبولیت حاصل کی ہے، اس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader