Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مقبولیت مسلمانوں کے منفی جذبات کو استعمال کر کے حاصل کی ہے۔ مگر میں اس قسم کی قیادت کو سراسر باطل سمجھتا ہوں۔ کسی قوم کو مثبت نفسیات پر اٹھانا قیادت ہے، اور کسی قوم کو منفی نفسیات پر اٹھانا ہلاکت۔ 14 اکتوبر 1985 جنت کے بارے میں قرآن میں ”عِنْدَکَ“ اور ”عِنْدَ رَبِّہِمْ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلسِ خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفیکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔ وہاں پرفیکٹ باتیں ہوں گی۔ پرفیکٹ سلوک ہوگا۔ پرفیکٹ سامان ہوں گے۔ یہ ایک پرفیکٹ ماحول ہوگا، اور پرفیکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔ یہ پرفیکٹ دنیا (perfect world) اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ صرف ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اور وہ ہے پرفیکٹ تھنکنگ۔ آدمی عمل کی سطح پر پرفیکٹ نہیں بن سکتا۔ مگر سوچ (thinking) کی سطح پر وہ پرفیکٹ بن سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔ 15 اکتوبر 1985 عربی زبان میں غیر معمولی طور پر یہ صلاحیت ہے کہ وہ وسیع مضامین کو مختصر لفظوں میں ادا کر سکے۔ غالباً کسی اور زبان میں یہ صلاحیت اتنی زیادہ نہیں۔ ماہنامہ العربی (کویت) کی اشاعت اکتوبر 1985 میں صفحہ 32 پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک عرب شیخ اپنے مخصوص حلیہ میں چھڑی لیے ہوئے کھڑا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page