اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے پیچھے ایک ہرے بھرے فارم کی تصویر ہے جس میں کھیت اور باغ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تصویر کے اوپر (فارمر کی زبان سے) لکھا ہوا ہے ـــ انھوں نے بویا تو ہم نے کھایا، ہم ہوتے ہیں تا کہ وہ کھائیں: زَرَعُوا فَأَکَلْنَا، وَنَنْزَرَعُ لِيَأْكُلُوا یعنی ہماری پچھلی نسلوں نے درخت لگائے جن کا پھل ہم کو ملا۔ اب ہم درخت لگا رہے ہیں تا کہ ہمارے بعد کی نسلیں اس کا پھل پاسکیں ۔ جو لوگ عربی زبان اور اس کے ساتھ دوسری زبانیں جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس تصور کو اتنے کم الفاظ میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ ادا کرنا کسی اور زبان میں شاید ممکن نہیں۔ 17 اکتوبر 1985 حدیث میں آیا ہے: الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِر (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2956)۔ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن خدا کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہے اور دنیا میں اس کو انسانوں کے پڑوس میں رہنا پڑتا ہے۔ اس کی نظروں میں ” پرفیکٹ “ سایا ہوا ہوتا ہے اور دنیا میں اس کو ” امپر فکٹ “ سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ کامل سچائی کا طالب گار ہوتا ہے اور دنیا میں وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ اور نا انصافی اور دھاندلی کی حکمرانی ہے۔ وہ اصول پسند ہوتا ہے جب کہ دنیا میں اس کو ہر طرف بے اصولی کا راج دکھائی دیتا ہے۔ غیر مومن با اصول یا آئیڈیلست نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔ وہ ہر صورت حال میں ڈھل کر اپنا مفاد محفوظ کرلیتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا اس لیے اسے کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader