اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے پر راضی ہو گیا۔ جس نے خانہ کعبہ میں سیکڑوں بت دیکھے مگر اس کو برداشت کرتا رہا۔ تا کہ وہ انسانوں کو خدا کا پیغام سنا سکے۔ یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان گزری ہوئی تاریخ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہ زندہ خدا کو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے پاس ”حال“ کا کوئی سرمایہ نہیں، وہ صرف ”ماضی“ کی یادوں کے بل پر جی رہے ہیں۔ 1985 26 نومبر المنجد ایک مشہور عربی لغت ہے۔ اس کو ایک عیسائی عالم لوئیس معلوف (1946-1867) نے تیار کیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی_ حتی کہ وہ عربی مدارس اور اسلامی اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لغت بن گیا۔ اس لغت میں متعدد مقامات پر عیسائی ذہن کی ترجمانی ہے۔ مثلاً ایک عربی لفظ ”الطلقاء“ ہے۔ یہ طلق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے مشرکین سے فرمایا تھا: اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412)۔ یعنی جاؤ، تم سب آزاد ہو۔ یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے۔ لیکن جب پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی_ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کر دیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ مگر المنجد میں اطلقاء کا مفہوم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: اَلَّذِينَ اُدْخِلُوا فِي الْإِسْلَامِ كُرْهاً (وہ لوگ جو اسلام میں زبردستی داخل کیے گئے)۔ ظاہر ہے کہ الطلقاء کا یہ مفہوم اس کے اصل مفہوم کا بالکل الٹا ہے۔ اس طرح کی اور بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader