اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطیاں المنجد میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں عربی کا کوئی ایسا لغت تیار نہیں کیا جو المنجد کی جگہ لے سکے۔ اس لیے ان غلطیوں کے باوجود عملاً اس کا رواج ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں لغت کے علاوہ دوسرے علوم کا بھی ہوا ہے۔ 1985 نومبر 27 حدیث میں ہے: مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہوگا۔ دوسری حدیث ہے: لَا يَجْتَمِعُ مَاءُ زَمْزَمَ وَنَارِ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عبد أبدًا (الفردوس بماثور الخطاب، حدیث نمبر (7799)۔ یعنی زمزم کا پانی اور دوزخ کی آگ ایک انسان کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ اس بنیاد پر فقہا نے زمزم کے آداب مقرر کیے ہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے کہ زمزم کا پانی خود اپنے ہاتھ سے نکالا جائے اور قبلہ کی جانب رخ کر کے خوب سیر ہو کر پیا جائے اور ہر سانس پر نظر اٹھا کر بیت اللہ کو دیکھے اور بچا ہوا پانی اپنے منھ اور جسم پر مل لیا جائے اور ہو سکے تو کچھ اپنے جسم پر بھی ڈال لے۔ مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں ہر چیز کو مسئلہ بنا دیا۔ حتی کہ زمزم پینے کو بھی۔ زمزم کے مسائل اس سے بھی زیادہ ہیں جتنا اور پر نقل ہوئے۔ 1985 نومبر 29 ہر شخص یا ہر قوم کی زندگی میں ایسی کوئی چیز ہوتی ہے، جس کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہر دوسری چیز اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ ہر دوسری چیز کے بارے میں اپنے رویہ کا فیصلہ اس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام قوموں کا حال یہ ہے کہ ان کے لیے ان کا قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) سپریم بنا ہوا ہے۔ ہر دوسری چیز نیچے ہے، اور قومی مفاد ہر چیز کے اوپر۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی حالت بھی ہے۔ انھوں نے بھی اپنے قومی مفاد کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام دے دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader