Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان اگر چہ اس کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً دوسرے لوگ اگر قومی مفاد کا لفظ بولتے ہیں تو مسلمان ملی مفاد کا لفظ بولتے ہیں ۔ دوسروں کے پاس اگر قومی غیرت کا لفظ ہے تو مسلمانوں کو اسلامی حمیت اور دینی غیرت کا لفظ ملا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ جس کو قومی لڑائی کہتے ہیں اس کو مسلمانوں نے مقدس جہاد کا نام دے رکھا ہے ۔ مگر اس سے اصل واقعہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلامی الفاظ بولنے سے مسلمانوں کی قوم پرستی خدا پرستی نہیں بن جائے گی۔ اہل ایمان کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے وہ خدا کی معرفت اور دعوت ہے۔ 30 نومبر 1985 تقریر یا تحریر کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر وضوح (clarity) ہو، یعنی اُس کو سننے یا پڑھنے کے بعد مقرر یا محرر کا مدعا بلا اشتباہ سمجھ میں آجائے۔ جب آدمی کو گہری دریافت نہ ہو تو اس کے کلام میں کلیریٹی نہیں پائی جائے گی، وہ کبھی ایک بات کرے گا، اور کبھی اس کے خلاف بات ۔ مثال کے طور پر انور صابری (1985-1901) کا ایک شعر ہے: تم شور وہنگامہ نہ بنو، بن جاؤ رات کا سناٹا جو بڑھتے بڑھتے بڑھتا ہے اور دنیا پر چھا جاتا ہے بظاہر اس شعر کے اندر ایک گہری بات کہی گئی ہے۔ مگر کوئی گہری بات اسی وقت مفید ہوتی ہے جب کہ وہ گہرے شعور کے تحت نکلی ہو۔ انور صابری کے کلام کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کا یہ شعر محض شاعرانہ جذبات کے تحت نکلا ہے، نہ کہ فی الواقع کسی گہری دریافت کے تحت ۔ چنانچہ ایک طرف انھوں نے مذکورہ بالا شعر کہا ہے اور دوسری طرف شور وغل والے اشعار بھی کثرت سے ان کے یہاں موجود ہیں: مثلاً تمنا ہے کہ دنیا سے غلامی کو بدل ڈالوں شہنشاہوں کا سر پائے بغاوت سے کچل ڈالوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page