Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی حال موجودہ زمانہ کے بہت سے مسلم رہنماؤں کا ہے۔ بعض اوقات ان کی تقریریا تحریر میں کوئی گہری، سنجیدہ بات بھی دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ محض وقتی اور سطحی بات ہوتی ہے۔ وہ ان کی معرفت سے نکلی ہوئی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جگہ اگر صبر کا لفظ بولتے ہیں تو دوسری جگہ جذبات بھڑکانے کا کام کرنے لگتے ہیں۔ ایک جگہ تعمیر خویش کی بات کہتے ہیں تو دوسری جگہ تخریب غیر پر پر جوش کلام کا مظاہرہ شروع کر دیتے ہیں۔ شاعرانہ کلام میں تضاد (contradiction) ہوتا ہے، اور معرفت والے کلام میں ہم آہنگی۔ 2 دسمبر 1985 ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا دین کیا ہے اور صحابہ کرام کا دین کیا تھا۔ میں نے کہا کہ، ایک لفظ میں، ہمارا اور صحابہ کرام کا فرق یہ ہے کہ ہم نفرتِ اقوام پر کھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام محبتِ اقوام پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے وہ تمام فرق پیدا کر دیا ہے جو ہمارے اور صحابہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔ 3 دسمبر 1985 ایک نوجوان نے گفتگو کے دوران اپنی شادی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری شادی میرے ماں باپ نے کر دی، مگر میری جو بیوی ہے، وہ مجھ کو پسند نہیں۔ میں نے کہا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ شادی وہ ہے، جو ناپسندیدہ شادی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے اس قول کو آپ لکھ لیجیے اور اس کو 20 برس بعد دیکھیے گا۔ کیوں کہ ان الفاظ کی معنویت کو آپ آج سمجھ نہیں سکتے۔ اس کی معنویت آپ کی سمجھ میں اس وقت آئے گی جب کہ میری طرح آپ کے بال سفید ہو چکے ہوں گے۔ ایک صاحب سے ہندوستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہند و ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page