اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
مظاہر پرست قوم ہے۔ وہ ہر نمایاں چیز کے آگے عقیدت سے جھک جاتی ہے، خواہ وہ پیپل کا درخت ہو یا ہمالیہ پہاڑ، یا اور کوئی نمایاں چیز۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ہند و قوم بہت جلد کسی کی عقیدت مند ہو جاتی ہے۔ آپ کوئی اعلیٰ اخلاقی سلوک کریں۔ کسی بر تر انسانی معاملہ کا ثبوت دیں تو ہندو فوراً جھک جائے گا۔ وہ کہے گا کہ آپ تو دیوتا ہیں۔ میں نے اس سلسلہ میں کئی واقعاتی مثالیں دیں۔ 5 دسمبر 1985 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے ۔ پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے (کِسْرُ يَابِسَةٌ وَ خَلٌ)۔ آپ نے فرمایا : جس گھر میں سرکہ ہو اس کو سالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جا سکتا (فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلَّ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 1841۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔ اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے ۔ مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، ککڑی، لؤ کی، کچھڑی، دودھ، مکھن، کھجور، وغیرہ۔ اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جو اس وقت کے مدینہ میں رائج تھیں۔ اگر اس سلسلہ کی مختلف روایتوں کو جمع کیا جائے تو رائج کھانوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں بچے گی، جو آپ کے مرغوب کھانے کی فہرست میں شامل نہ ہو۔ پھر اگر آپ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا معاملہ ہی نہیں۔ آپ کے اس قسم کے تمام کلمات میزبانوں کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں۔ اس وقت مدینہ میں کھانے کے سامان کی کمی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader